الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

Тавассул после кончины Пророка ﷺ и практика сподвижников

سوال

حضرت عثمان ابن حنیف رضی اللہ عنہ کی جو روایت آپ نے توسل کے جواز میں پیش فرمائی ہے، یہ تو آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ کا واقعہ ہے، اس سے یہ بات تو ثابت ہو سکتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی زندگی میں توسل سے دعا کی اجازت دی تھی، سوال آپ کی وفات کے بعد کا ہے، بعض اکابر صحابہ کا عمل وفات نبوی کے بعد نبی کے توسل کے بجائے اس وقت کے زندوں سے لینے کا رہا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ صحابہ میں وصال نبوی کے بعد آپ ﷺ کے توسل کا ذریعہ نہیں رہا، اس سلسلہ میں دو جلیل القدر صحابہ کا واقعہ ملاحظہ فرمائیں: (۱)

جواب

یہ دونوں واقعے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ زندہ سے توسل درست ہے، مردہ کے توسل سے ساکت ہیں، سابق فتوی میں بحوالہ طبرانی جو عبارت نقل کی گئی تھی، اس میں انبیاء سابقین سے توسل کے بھی الفاظ تھے۔ نیز فتح القدیر کی جو عبارت نقل کی گئی تھی، اسمیں زائرین کو ہدایت تھی وہ بھی حضرت رسول اکرم ﷺ کی وفات کے بعد ہی کیلئے ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو