خاص بزرگ کے توسل سے دعاء
سوال
ادھر میں نے تین حسب ذیل اقوال پڑھے ہیں۔ (۱) حضرت مجدد الف ثانی قبروں کو بوسہ دینے سے منع فرماتے ہیں لیکن اہل قبور سے مدد طلب کرنے کو جائز سمجھتے ہیں۔ (مجدد اعظم، مصنفہ محمد حلیم صاحب، مکتبہ دینیات دہلی ص۱۱۱) (۲) توسل جواحادیث سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ فلاں مقبول بندے کی برکت سے میری فلاں حاجت پوری فرما۔ (۳) قبر پر فاتحہ کھڑے ہو کر پڑھنا چاہئے۔ (نظام، کانپور، ماہ جنوری ۶۴، ص ۳۸)
جواب
اگر وہ بزرگ ایسے ہیں کہ جن کی بزرگی (ولایت) پر دلیل قائم ہے تو اس طرح دعا کی بھی گنجائش ہے کہ اے اللہ اپنے اس خاص بندے کے طفیل یا توسل سے میری دعا قبول فرما، لیکن مناسب واحوط یہ ہے کہ تخصیص نہ کرے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔