حضور ﷺ کے وسیلہ سے دعا کرنا
سوال
ایک صاحب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل سے دعا مانگنے کے قطعی متفق نہیں دعا کا طلب کرنا کیسا ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ جو کچھ طلب کرنا ہے بس خدا سے طلب کریں حتی کہ جوتے کا تسمہ وغیرہ، خیر اس سے انکار نہیں لیکن یہ وسیلہ ضروری نہیں، بغیر وسیلہ کے بھی کام چل جاتا ہے، تو گویا ہم شرک کر رہے ہیں، جو وسیلہ سے طلب کرتے ہیں، یہ ہمیں قطعی پسند نہیں کہ شرک کر کے نعوذ باللہ جہنم خریدیں۔
جواب
اگر کوئی شخص حق تعالیٰ سے بغیر وسیلہ کے دعا مانگتا ہے، تو یہ بھی درست ہے، اگر کوئی شخص حق تعالیٰ سے اس طرح دعا مانگتا ہے کہ یا اللہ میری فلاں حاجت حضرت محمد ﷺ کے طفیل میں پوری فرمادے، تو یہ بھی جائز ہے، اسکو شرک کہنا غلط ہے، اس طرح خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔