توسل میں ابن تیمیہ کا قول
سوال
جیسا کہ ہم لوگ اہل سنت والجماعت دعا کرتے وقت، حضور ﷺ کے صدقہ وطفیل سے دعا کرتے ہیں جائز ہے یا نہیں، امام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب الوسیلہ میں خدا کے صفاتی نام کے سوا وسیلہ کو نا جائز قرار دیا ہے، اور دلیل میں حضرت عمر والی حدیث جو کہ حضرت نبی ﷺ کے چا حضرت عباس کے واسطے سے استسقا کی دعا کی تھی، حضور ﷺ کی وفات کے بعد پیش کرتے ہیں، اس دلیل سے دعا کرنا حضور ﷺ کے طفیل سے جائز ہے یا نا جائز، ہم نے سنا ہے کہ ابن تیمیہ پر کسی صاحب نے تنقید کی ہے وہ کون صاحب ہیں اور کس مسئلہ پر تنقید کی ہے؟
جواب
اسطرح دعا کرنا کہ یا اللہ حضرت نبی اکرم ﷺ کے وسیلہ سے ہمارا فلاں کام کر دے، ہمیں گناہوں سے بچالے، ہمیں اعمال صالحہ کی توفیق دے، اہل السنۃ والجماعت کے نزدیک شرعاً درست ہے، جب کہ حضور اقدس ﷺ کے چچا کے وسیلہ سے دعا کرنا امام ابن تیمیہ کے نزدیک درست ہے، تو اہل السنۃ والجماعت کے نزدیک براہ راست حضور اقدس ﷺ کے وسیلہ سے بھی درست ہے، اس مسئلہ پر مستقل رسائل تصنیف کئے گئے ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔