الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ہر ایک کا ارادہ خدا کے ارادہ کے تابع ہے

سوال

بموجب آیت کریمہ ”وَمَا تَشَاؤُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللہ“ ہر کام کے لئے پہلے مشیت الہی ہوتی ہے، اس کے بعد بندہ کا ارادہ ہوتا ہے، اور ارادہ کی عملی صورت کا نام اہتمام ہے، چنانچہ اہتمام کا انکار ارادہ کا انکار ہے، اور ارادہ کا انکار مشیت الہی کا انکار ہے، یعنی اہتمام کو ضلالت بتانا یہ اہتمام کی اصل مشیت الہی کو ضلالت بتانا ہے، جو اصولاً غلط ہے، لہذا اہتمام کے متعلق اگر کوئی حدیث صریح ہو تو نقل فرمائیے، ورنہ یہ تحریر فرمائیے کہ اس کے متعلق کوئی حدیث صریح نہیں ہے۔

جواب

یہ اشکال بعینہ اسی تقریر کے ساتھ معاصی میں بھی جاری ہے تو جس طرح طاعات وقربات مستحبه غیر واجبہ کے اہتمام کا انکار ارادہ کا انکار ہے، اور ارادہ کا انکار مشیت الہی کا انکار ہے، اسی طرح معاصی کے اہتمام کا انکار ارادہ کا انکار ہے، اور ارادہ کا انکار مشیت الہی کا انکار ہے۔ فما قولكم رحمكم الله۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو