تقدیر کی قسم مبرم ومعلق ہے
سوال
تقدیر کا فیصلہ اٹل ہے قلم لکھ چکے صحیفے سوکھ چکے قلم اٹھ گیا، اب معترض اعتراض کرتا ہے، کہ جب فیصلہ ہو چکا تو پھر بندہ پر سزا اور جزا کیوں؟ مثلاً کسی نے خودکشی کی تو اس پر سزا کیوں؟ اور تقدیر کی کتنی قسمیں ہیں؟
جواب
تقدیر کا فیصلہ اٹل ہے، سزا جزا کو بھی تقدیر ہی کا فیصلہ مان لیا جائے تو کیا اشکال ہے؟ تقدیر حقیقۃً ایک ہی قسم کی ہے جو کہ اٹل ہے، جسکو عربی میں مبرم کہتے ہیں، اور دوسری جو قسم بعض عبارات میں ملتی ہے، وہ بندوں کے اعتبار سے ہے جس کو معلق کہتے ہیں، نہ کہ علم الہی کے اعتبار سے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔