مسئلۂ تقدیر
سوال
بعض لوگوں نے یوں سوال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تقدیر مقرر کی ہے، اسکے مطابق دنیا میں آنے کے بعد عمل کریگا، یعنی چاہے نیک ہو یا بد، اسی کے حکم کے ماتحت ہوگا، کیونکہ خداوند قدوس نے قرآن شریف میں فرمادیا کہ میرے حکم کے بغیر پتہ بھی ہل نہیں سکتا، لہذا انسان دنیا میں آنے کے بعد جو گناہ کر رہا ہے، اس کو آخرت میں کیوں سزا دے گا کسی عالم کا دماغ کتنا ہی عقلمند کیوں نہ ہو وہ اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر سے کم وبیش نہیں کر سکتا ہے؟
جواب
مسئلۂ تقدیر میں بحث کرنے کی اجازت نہیں۔ صحابہ کرام ایک دفعہ کسی گفتگو میں مشغول تھے، حضرت رسول اکرم ﷺ تشریف لائے، فرمایا کہ کیا گفتگو کر رہے تھے، عرض کیا کہ تقدیر کے مسئلہ میں بات تھی چہرۂ مبارک غصہ سے سرخ ہو گیا، اور فرمایا کہ کیا اس کیلئے تم پیدا کئے گئے ہو یا میں اس کے لئے بھیجا گیا ہوں، ہلاک ہو گئے وہ لوگ جنہوں نے اس میں گفتگو کی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔