تقدیر کے مسئلہ پر اشکال
سوال
قابل غور بات یہ ہے کہ تقدیر کا مسئلہ جو پروردگار نے روز اول میں لکھ دیا ہے، وہ ضرور پورا ہوگا، چاہے جو کچھ بھی ہو تو پھر انسان کی اس میں کیا خطا ہے، کہ کسی آدمی کی زندگی عبادت میں گذری آخری وقت خاتمہ خراب ہوا تو اس کے لئے دوزخ اتنی زندگی بھر کی عبادت غارت ہوگئی، زندگی میں کبھی نہ کبھی رمضان کا مہینہ ضرور آیا ہوگا، اور اس میں چوبیس گھنٹہ میں کوئی نہ کوئی دعا ضرور بندے کی قبول ہوتی ہے، کبھی کبھی وقتا فوقتا علماء نے دعا ضرور مانگی، تو پھر اللہ نے کیوں پورا نہیں کیا، تو معلوم ہوا کہ معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ بندہ کے دشمن…
جواب
یہ مسئلہ آپ کی سمجھ سے اونچا ہے، جیسے کوئی میزان پڑھنے والا کہے کہ مجھے مسئلۂ الکحل کیا ہے؟ سمجھ میں نہیں آتا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔