پاکستان جانے کی قسم
سوال
بکر اور اس کے دو دوستوں نے مسجد میں جا کر قسم لی کہ ہم تینوں پاکستان چلے جائیں گے، ان میں سے ایک ساتھی کا انتقال ہو چکا، پاکستان کوئی نہ جاسکا، اب یہ دونوں بھی پاکستان جانا نہیں چاہتے، لہذا قسم کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب
جس کا انتقال ہو گیا اس کی قسم ٹوٹ گئی اس کے ذمہ کفارہ کی وصیت کرنا لازم تھا دو شخص موجود ہیں، ابھی ان کی قسم نہیں ٹوٹی، جب وہاں جانے کا امکان ختم ہو جائیگا، تب قسم ٹوٹے گی اور کفارہ لازم ہوگا قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس غریبوں کو دو وقت شکم سیر کھانا کھلایا جائے، یا ان کو کپڑا پہنا دیا جائے، اگر وسعت نہ ہو تو تین روز مسلسل رکھے جائیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔