الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا قسم کھانا جھوٹا ہونے کی علامت ہے

سوال

کسی مسلمان کے قسم کھانے پر کسی مسلمان کو یقین کرنا چاہئے یا نہیں، مثلاً ایک شخص بظاہر دیندار نیک حافظ قرآن نے ایک مولوی صاحب کے سامنے کسی بات پر خدا کی قسم کھائی مگر اس پر مولوی صاحب نے ایک حدیث پڑھ کر فرمایا کہ جو قسم کھاتا ہے اس حدیث کی رو سے جھوٹا ہے، دریافت طلب یہ امر ہے کہ اگر کسی حدیث کی رو سے بظاہر ایک دیندار آدمی قسم کھانے پر جھوٹا ہوگا، تو کسی مسلمان کے جھوٹا یا سچا ہونے کی دلیل شرعی ہے، اور اس کے معلوم کرنے کا شرعی کیا طریقہ ہے؟

جواب

بات بات پر قسم کھانا جھوٹے آدمی کی عادت ہوتی ہے، سچے آدمی کا یہ کام نہیں جیسا کہ شب وروز تجربہ اور مشاہدہ ہوتا ہے، لیکن وہ حدیث جس کی رو سے مولوی صاحب قسم کھانے والے کو جھوٹا قرار دیتے ہیں، آپ نے نہیں لکھی، بہتر ہوتا لکھ دیتے تا کہ اس کے متعلق تحقیق ہو جاتی، جب مسلمان کا ظاہر حال بتاتا ہے کہ وہ صالح دیندار ہے تو بغیر دلیل شرعی کے اس کی قسم کا اعتبار نہ کرنا اور اس کو جھوٹا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو