الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کپڑے کو جلانے کی قسم

سوال

میری بیوی نے اپنی مرضی سے ڈیڑھ میٹر کپڑا خریدا اس نے چوری سے خرید کر کسی دوسری جگہ رکھ دیا تھا اب رمضان المبارک کو وہ دوسال کے بعد میرے سامنے آیا تو میں نے کہا کہ میں نے تو اس کپڑے کو انکار کر دیا تھا، پھر تو نے یہ کپڑا کیوں لیا تو میری بیوی نے کہا کہ مجھے یہ لینا تھا اس لئے میں نے چوری کی اور اب اسے رکھوں گی پھر میں نے جوش میں آ کر قسم خدا کی یہ کہدیا کہ اس کپڑے کو میں آگ لگا دوں گا، پھونک دوں گا، غرض یہ ہے کہ میں اس کپڑے کو جلا کر راکھ بنا دوں یا کسی کو دیدوں؟

جواب

اس کپڑے کو آگ لگانے کے لئے نہ تو آپ نے وقت متعین کیا نہ دن نہ تاریخ لہذا وہ عورت اس کپڑے کو استعمال کرے جب پرانا ہو جائے تو اس کو جلا دیں اس طرح قسم پوری ہو جائے گی، ابھی اس حالت میں جلا دیں گے تب بھی قسم پوری ہو جائے گی مگر نقصان ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو