جھوٹی قسم کھانا
سوال
اگر کوئی شخص کسی سے مذاق کرے اور پھر اس مذاق میں پکڑا جائے اور پھر اس نے اقرار نہیں کیا اور جھوٹ اس نے اپنی جان بچانے کے لئے قرآن شریف اٹھا لیا، تو اس کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ اس شخص کو کیا عذاب ہوتا ہے، اور اس کے عذاب کم ہونے کی کیا صورت ہوتی ہے؟
جواب
جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہ ہے قرآن کریم ہاتھ میں لے کر جھوٹی قسم کھانا اور بھی خطرناک ہے، عذاب آخرت کے علاوہ بسا اوقات اس کا وبال دنیا میں بھی آجاتا ہے، اور جھوٹ ظاہر ہو کر بہت رسوائی اور ذلت ہوتی ہے، ان لوگوں کی نظروں میں بھی حقیر وذلیل ہوتا ہے، جن کو یقین دلانے کے لئے قرآن شریف ہاتھ میں لیکر جھوٹی قسم کھائی اور اپنی عزت بچائی تھی، ایسے شخص کو خدا کے سامنے نالائق حرکت پر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔