الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اگر فلاں کام کروں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا گوشت کھاؤں

سوال

زید نے قسم کھائی کہ اگر اب زندگی بھر میں سوئیاں اور چائے کھاؤں پیوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گوشت کھاؤں اور اسی طرح بکر نے یہ قسم کھائی کہ اگر زید سے زندگی میں کبھی کلام کروں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گوشت کھاؤں (نعوذ باللہ) یہ سب قسم بحالت غصہ کھائی ہے، اب دریافت طلب یہ ہے کہ کیا یہ قسمیں کھانا اور ان قسموں پر قائم رہنا بروئے شرع جائز ہے یا نہیں؟ اور یہ کہ ان کا کفارہ واجب ہے تو کیا اور کس طرح اس کی ادائیگی کی جائے؟

جواب

ایسی قسم کھانا انتہائی جہالت اور قساوت کی نشانی ہے، اس کو چاہئے کہ اپنی قسم کے خلاف کریں، یعنی سوئیاں اور چائے کھا پی لے اور اپنے نفس کو سزا دینے کے لئے دس غریبوں کو دو وقت شکم سیر کھانا کھلائے اسی طرح زید سے کلام کریں، اور اپنے نفس کو سزائے مذکورہ دیدے اور آئندہ کبھی ایسی جرات نہ کرے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو