کفالت سے حلفیہ انکار
سوال
زید ایک غیر مسلم کا مقروض تھا دائن جب تقاضا کر تا صاف انکار کر دیتا اس لئے دائن نے عدالت میں چارہ جوئی کی اور زید کے حلف پر مدار رکھا گیا زید نے عدالت مجاز میں کلام مجید اٹھا کر قرضہ کی ذمہ داری سے انکاری ہو گیا، اس لئے دعوئی خارج ہو گیا، پس زید کے لئے جھوٹے حلف پر شرعاً کیا سزا اور کفارہ ہو سکتا ہے؟
جواب
اگر زید کے ذمہ واقعی واجب الاداء قرض ہے اور اس نے جھوٹا حلف اٹھایا ہے، تو اس قرض کو ادا کرنا ضروری ہے، ورنہ آخرت میں مواخذہ ہوگا، اور اس جھوٹ کا گناہ الگ ہے، جس کے لئے صدق دل سے توبہ کرنا ضروری ہے، اور کفارہ اس کے ذمہ شرعاً بجز توبہ واستغفار کے کچھ فرض نہیں، اليمين بالله ثلثة انواع غموس وهو الحلف على اثبات شي او نفيه في الماضي او الحال بتعمد الكذب فيه فهذه اليمين ياثم فيها…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔