صاع کے وزن میں احتیاط پر عمل
سوال
کسی امام کے نزدیک صاع ۲۵۲ تولہ کا ہے، جس کو مولا نا روح الامین مرحوم نے اپنی فتاوی کی کتاب میں لکھا ہے، مفتی محمد شفیع صاحب کی کتاب مطالعہ کی گئی اس میں ۲۷۰ تولہ کا حساب ہے، ۲۵۲ تولہ کا صاع نہیں ملا، ۲۵۲ تولہ کے صاع کے حساب سے فطرہ ادا کرنے سے فطرہ ادا ہو گا یا نہیں؟
جواب
صاع کے وزن کو جب تولہ اور سیر میں منتقل کیا جاتا ہے، تو حساب سے کچھ فرق نکلتا ہے چنانچہ بہشتی زیور اور فتاوی رشیدیہ امداد الفتاوی و مظاہر حق کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے اس لئے احتیاطی پہلو یہ ہے کہ جو وزن زائد ہو اس کو اختیار کیا جائے، کیونکہ صاع بھی مختلف تھے اور سیر بھی مختلف تھے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔