زمین کی ملکیت پر قربانی اور صدقۃ الفطر کا وجوب
سوال
میں نفس زمین کا مالک رہا ہوں ایک مرحلہ تک یعنی ذات ارض میری مملوکہ رہی ہے جس کی مقدار اتنی تھی کہ اس کی آمدنی اور پیداوار سے میں اکثر سالوں میں ایسی زندگی بسر کرتا ہوں یعنی اس کی آمدنی سے نہ جمع کرنے کے لئے بچتا تھا اور نہ معاش واخراجات میں کمی آتی تھی کہ دوسروں سے قرض لیا جائے، یہ تو اکثر کی حالت تھی یعنی زمین بقدر ضرورت تھی مگر بعض سالوں میں ایسا بھی ہوتا کہ پیداوار زیادہ ہونے کی وجہ سے سال بھر کے خرچ نکالنے کے بعد کچھ جمع بھی کیا جا سکتا تھا اور بعض سالوں میں پیداوار کم ہونے کی وجہ سے سال بھر کے خرچ میں کمی بھی…
جواب
جب کہ یہ زمین آپ کی حوائج اصلیہ سے زائد ہے کہ آپ نے اس کی پیداوار سے کچھ بھی نہیں لیا، بجز ۵۰ روپئے اور تین کمبلوں کے بلکہ تبرکاً ہمیشہ ہمشیرہ کو پیداوار دیتے رہے تو آپ پر قربانی بھی واجب ہوئی اور صدقة الفطر بھى وهذا ظاهر لا يخفى.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔