صاع وغیرہ کے اوزان
سوال
صاع کے مسئلہ پر ایک فتویٰ، استفتاء انگریزی دور حکومت میں ہندوستان کے مختلف شہروں میں مختلف طرح کے وزن رائج تھے، کہیں ۴۶ تولہ کا سیر تھا، کہیں۸۰ر تولہ کا سیر اور تول میں بھی فرق تھا، اس زمانہ میں صدقۃ الفطر کی مقدار متعین کرنے میں بڑا اختلاف تھا کوئی پونے دوسیر بتاتا تھا، کوئی دوسیر کوئی دوسیر آدھ پاؤ اور کوئی سوا دو سیر اور بعض علماء نے ڈھائی سیر تک بیان کیا ہے، اس لئے ہر جگہ لوگ اپنے اپنے علماء کی تحقیق پر اعتماد کرتے ہوئے صدقۃ الفطر ادا کرتے ہیں، اب سیر کا وزن متروک ہو چکا ہے، اور اس کی جگہ تمام ہندوستان میں…
جواب
صاع ایک عربی پیمانہ ہے جس سے غلہ ناپ کر دیا جاتا ہے اور آج بھی عرب میں ناپ ہی کر غلہ فروخت کرتے ہیں، اور صدقہ فطر ادا کرنے کا دستور ہے، صدقہ فطر ادا کرنے کے لئے حدیث میں چار چیزیں بیان کی گئی ہیں۔ (۱) گیہوں یا اس کا آٹا نصف صاع (۲) چھوہارا (۳) منقی (۴)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔