الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

صاع کی مقدار

سوال

صدقۃ الفطر ہر شخص پر کتنا واجب ہے کتابوں میں جو نصف صاع لکھتے ہیں اسی تولہ سیر کے حساب سے اس کا صحیح وزن کیا ہے کریم اللغات ص: ۱۳۹ پر درج ہے، صاع وزن ہے، دو سو چونتیس تولہ کا اس لغات کے اعتبار سے نصف صاع ایک سیر ساڑھے سات چھٹانک ہوتے ہیں بریں بنا ہم تو ڈیڑھ سیر کے حساب سے دیتے ہیں، فی الحال ایک مولانا صاحب نے فرمایا کہ صدقۃ الفطر ہر شخص پر پونے دوسیر یا اس سے کچھ زائد ہے، احتیاطاً دوسیر دینا بہتر ہے، اب دریافت کرنا ہے، کہ صدقۃ الفطر کس حساب سے اور کتنا ادا کریں؟

جواب

فتاوی رشیدیہ ص: ۳۶۲ میں صدقۃ الفطر سہارن پور کی تول کے ڈیڑھ سیر پختہ گندم لکھا ہے، احتیاطاً دوسیر بتایا جاتا ہے جو شخص پورا دوسیر دیدے وہ مزید ثواب کا مستحق ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو