صدقہ فطر کس نرخ سے ادا کیا جائے
سوال
کنٹرول کی حالت سب پر روشن ہے، اگر دلال لوگ خفیہ طور سے قیمت، مقررہ سے زیادہ قیمت لے کر مال فروخت کر دیں تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ (دلال اپنے پیسے سے مال خرید کر لایا ہے صرف اتنی بات ہے کہ حکومت نے کتنی شرائط جبر یہ مقرر کر دی ہے نہ کہ مالک نے) اور کنٹرول ریٹ کے دام سے فطرہ ادا ہو گا یا نہیں؟
جواب
اگر وعدہ خلافی اور دروغ گوئی کی نوبت نہ آئے نیز عزت اور نقصان مال کا خطرہ نہ ہو، (جیسا کہ علم ہونے پر مقدمہ چلتا ہے اور جرمانہ ہو جاتا ہے) تو درست ہے، اگر اپنے اخراجات بھی کنٹرول نرخ سے لیتا ہے تو صدقہ فطر بھی اس نرخ سے ادا کرنا درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔