مدارس میں زکوة
سوال
(۱) اہل مدارس مدارس کے جملہ اخراجات کیلئے مدرسہ کے نام و پتہ کی چھپی ہوئی رسیدوں پر زکوۃ وصدقات واجبہ وصول کرتے ہیں یہ ان کا خود ساختہ نواں مصرف ہے۔ (۲) رسید بک، پوسٹر، کتابچہ، چارٹ، کلینڈر، روداد، کارڈ، کے سہارے زکوۃ وصدقات واجبہ کی وصولی کا مروجہ طریقہ نبی کریم ﷺ و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے ثابت نہیں۔ (۳) اس جدید اختراعی طریقہ وصولی کو بروئے کار لانے کے لئے علماء فقہاء کرام کا کہیں اجماع نہیں ہوا، اس پر عمل کرنے والے جو یہ نہیں جانتے کہ کس کی سنت ہے۔ (۴)
جواب
زکوۃ کی فرضیت قرآن کریم سے ثابت ہے تقریباً بیس آیات میں اقامت صلوٰۃ کیساتھ ایتاء زکوۃ کا بھی حکم ہے، نبی اکرم ﷺ کو حکم ہے: ”خذ من اموالهم صدقة (الآية) زکوۃ کے مصارف بھی بتائے گئے ہیں : ” انما الصدقات للفقراء“ (الآية)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔