الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بچیوں کے مدرسہ میں زکوۃ

سوال

ایک بچیوں کا مدرسہ قائم ہوا، جس میں دینی تعلیم ہو رہی ہے لیکن اس کی مالی حالت کمزور ہے، اس لئے دریافت طلب امر یہ ہے کہ: الف) کیا اس مدرسہ میں زکوۃ کی رقم دی جاسکتی ہے، اور اگر دی جاسکتی ہے تو دینے والا کس کو دینے کی نیت کرے؟ کیونکہ معلوم ہوا ہے کہ زکوۃ میں تملیک شرط ہے، تو کیا غریب اور نا بالغ بچیوں کی نیت سے زکوۃ دی جاسکتی ہے۔ (ب) زکوۃ کی رقم مدرسہ کے ذمہ دار کو دی جائے گی اور وہ ذمہ دار بچیوں کو دے کر حیلہ تملیک کرے گا تو کیا بچیاں اس سے مدرس کی تنخواہیں ادا کر سکتی ہیں؟ (ج)

جواب

اگر اس دینی مدرسہ کے اخراجات پورے کرنے کیلئے نہ کوئی وقف کی آمدنی ہے، نہ چندہ ہوتا ہے، نہ فیس وصول ہوتی ہے، تو بدرجہ مجبوری رقم واجب التملیک کو اسطرح صرف کرنا درست ہیکہ مستحق زکوۃ لڑکیوں کو تملیکا دیدیں اور وہ مالک وقابض ہونے کے بعد مقررہ فیس میں ذمہ دار کو دیدیں، پھر ذمہ دار اس رقم کو تنخواہ یا دیگر ضروریات میں صرف کر دے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو