مکتب میں زکوۃ اور قیمت چرم قربانی
سوال
ہمارے یہاں ایک مکتب اسلامیہ درجہ چہارم تک قائم ہے، جس میں دو مدرسین کام کرتے ہیں، سٹرک بورڈ ضلع میرٹھ سے مبلغ پندرہ روپیہ ماہور بطور امداد مقرر ہے، تعداد طلبہ ۱۷۲ ہے، مکتب مذکور ضلع کے خاص مکتبوں میں شمار کیا جاتا ہے، یہاں کے مسلمانوں کی حالت نہایت کمزور ہے، مکتب کی مالی امداد سے مجبور ہیں طلباء سے فیس وغیرہ قطعاً نہیں لی جاتی، اور غریب طلباء کے لئے کتابوں کا انتظام بمشکل چندہ سے کیا جاتا ہے مکتب میں درجہ تین و چار میں فارسی بھی پڑھائی جاتی ہے، دینیات میں رسالہ ہائے تعلیم الاسلام مصنفہ مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب…
جواب
زکوۃ اور چرم قربانی کو تعمیر یا تنخواہ میں یا وقفی کتب و قرآن شریف خریدنے میں صرف کرنا جائز نہیں، البتہ مستحق طلبہ کے وظائف میں صرف کرنا درست ہے، کہ ان طلباء کے کپڑے وغیرہ بنا دیئے جائیں اگر مکتب متولی یا مہتمم غریب اور مستحق ہو اور مالکان زکوۃ یا قیمت چرم قربانی اس کو دیدیں، اور مالک بنادیں تو اسکو از خود تنخواہ یا تعمیر وغیرہ میں صرف کرنا درست ہو گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔