الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نیم سرکاری مدرسہ میں زکوۃ

سوال

گنگوہ میں ایک مدرسہ اسلامی محض قرآن کی تعلیم نیز ضروری حساب واردو کی تعلیم کے لئے کھولا گیا تھا جس کے اخراجات کی یہ صورت تھی کہ مسلمانوں سے کسی قدر بطور چندہ لیا جاتا تھا، جب اس چندہ سے مدرسہ کا خرچ نہ چلا تو زکوۃ کی مد سے نیز چرم قربانی کا روپیہ لوگوں سے حاصل کر کے بحیلہ جواز مدرسہ میں صرف کرنے لگے چند روز اسی طرح کار روائی کی گئی، بعد میں سرکاری امداد بھی اس قدر امداد کا مطالبہ کیا چنانچہ اس وقت تک سرکاری امداد بھی اس قدر مل رہی ہے، جو اخراجات مدرسہ کو کافی ہے یعنی مدرسہ ہذا میں چار مدرس ہیں ان کی تنخواہوں کو…

جواب

زكوة جب مستحق کے پاس پہنچ گئی تو وہ ادا ہوگئی ہے اب اس نے جس کام کیلئے وہ روپیہ مدرسہ میں دیا ہے اسکی ہدایت کے موافق خرچ کرنا درست ہے ہے اور یہی حال قیمت قربانی کا ہے۔ مدرسه کا روپیہ مہتمم کے پاس امانت ہے اپنے ذاتی کام میں صرف کرنا درست نہیں، اگر صرف کریگا تو وہ قرض ہو جائے گا، امانت نہ رہے گا، یعنی اس کا تاوان واجب ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو