الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مدارس میں زکوۃ کا مصرف

سوال

(۱) زکوۃ کے روپیہ سے غریب و نادار طلبہ کی رہائش کے لئے حجرے بنانا آلات دستکاری خریدنا مدرسہ کے کتب خانہ کے لئے کتابیں خرید کر ایک وقت مقررہ کے لئے طلبہ کو مستعار دینا جائز ہے یا نا جائز۔ (ب) زکوۃ کے روپے سے اگر کوئی مکان اس لئے خریدا جائے کہ اس کی آمدنی سے غریب طلباء کو امدادی وظائف دیئے جائیں گے تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ (۲) زکوۃ کے روپیہ سے مدرسین اور معلمین دستکاری کو تنخواہیں دینا درست ہے یا نہیں؟ براہ کرام جملہ امور کا جواب بحوالہ کتب مسلک احناف کے مطابق مرحمت فرمایا جاوے۔

جواب

(۱) زکوۃ کے روپیہ کیلئے تملیک یعنی مستحق زکوۃ کو مالک بنادینا شرط ہے، حجرے بنانے آلات دستکاری خریدنے اور کتب خرید کر مستعار دینے میں تملیک مستحق نہیں، لہذا زکوۃ کا روپے ایسے مواقع میں صرف کرنا درست نہیں البتہ اگر آلات اور کتب وغیرہ خرید کر بطور تملیک دیدیں تو یہ درست ہے نیز کسی مستحق کو زکوۃ کا روپیہ دیدیا جائے، اور وہ حجرے بنوادے یا کتب وغیرہ خرید کر مدرسہ میں وقف کر دے تب…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو