الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زکوۃ کے پیسے سے مدرسہ کا قرض ادا کرنا

سوال

ایک مدرسہ اسلامیہ مقروض ہے اور چندہ کے پیسہ سے چلتا ہے، اس کی مالی حالت بہت کمزور ہے، کیا زکوۃ کے پیسے سے مدرسہ کا قرض ادا کیا جاسکتا ہے جب کہ مدرسہ میں کوئی طالب علم یتیم نہیں ہے؟ مدرسہ بہت قرض دار ہے۔

جواب

زکوۃ ادا ہونے کے لئے ضروری ہے کہ کسی غریب مستحق کو اس کا مالک بنادیا جائے، پس جو پیسہ مدرسہ میں زکوٰۃ کا دیا گیا ہے اگر براہ راست اس سے مدرسہ کا قرض ادا کر دیا جائے، تو زکوۃ ادا نہیں ہوگی اس کا ضمان لازم ہو گا۔ نوٹ: زکوۃ کا پیسہ براہ راست تنخواہ و تعمیر میں خرچ کرنا بھی جائز نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو