الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زکوۃ وغیرہ مدرسہ میں

سوال

ایک بہت بڑا موضع مسلمانوں نے آباد کیا ہے مگر وہاں کے لوگ بہت جاہل اور لاعلم ہیں عام طور سے غیر مستطیع ۸۵ فیصد ہیں، شرعی و مذہبی رسم ورواج سے بالکل بے بہرہ ہیں یہاں پر ایک مکتب جاری کیا گیا، بے حد کوشش کی گئی کہ مکتب میں کوئی رقم ماہانہ دی جائے لیکن لوگوں نے نہیں دیا، مکتب بار بار مع عمارت کے ختم ہوتا گیا، لیکن لوگوں نے توجہ نہیں کی، یہاں کے لوگ وعظ و پسند کی کوئی اہمیت نہیں رکھتے، مکر رسہ کر رلوگوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن برابر نا کامی رہی، یہ دیکھ کر ایک صاحب نے کوشش کر کے چالیسواں حصہ غلہ فطرہ زکوۃ کچھ…

جواب

جن رقوم (زكوة، صدقة الفطر، قیمت چرم قربانی، نذر کفارہ یمین صوم وغیرہ) میں تملیک ضروری ہے، ان کو تعمیر یا تنخواہ میں براہ راست صرف کرنا جائز نہیں، ایسا کرنے سے واجب ادا نہ ہوگا البتہ نفلی خیرات و صدقات کو تعمیر و تنخواہ میں بھی صرف کیا جا سکتا ہے ہے جو حضرات اہل دین مدارس چلاتے ہیں، اور طریق سے واقف ہیں، نیز اللہ پاک نے ان کو خشیتہ اور تقویٰ بھی عطا فرمایا ہے، ان کے وعظ کرائے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو