بریلوی مکتب فکر کے مدارس میں زکوۃ دینا
سوال
بمبئی میں رواج ہو رہا ہے کہ بریلوی حضرات اپنی رقم زکوۃ کو دیو بندی مدرسہ میں دینا ناجائز اور حرام سمجھتے ہیں اور ہمارے سفراء کو زکوۃ کی رقم نہیں دیتے ہیں تو کیا ان کے سفراء کو زکوۃ کی رقم دیں اور زکوۃ ادا ہو جائے گی یا ہم بھی ان کے مدرسہ والوں کو رقم نہ دیں۔
جواب
زکوۃ متقی دیندار کو دی جائے، جیسا کہ کتب فقہ میں ہے جو شخص جماعت یا مدرسہ حق اور اہل حق کی مخالفت وتکفیر کرے اس کے لئے کوشش میں مصروف رہے اس کو زکوۃ نہ دی جائے، اس کو زکوۃ دینا مخالفت حق کی اعانت کرنا ہے: ”تعاونوا علی البر والتقوى ولا تعاونوا على الاثم والعدوان الآية)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔