الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امام ومولوی کے لئے صدقہ فطر

سوال

اگر کوئی مولوی یا امام مسجد مالدار ہے، تو اس کیلئے صدقہ فطر لینا جائز ہے یا نہیں۔ (۲) صورت مذکورہ میں لینے والا اور دینے والا، اور دینے والے کا حکم عند الشرع کیا ہے نیز ایسے مولوی اور امام جو کہ مالدار ہیں ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے۔ (۳) صورت بالا میں مولوی صاحب اور امام صاحب جو کہ مالدار ہیں اور صدقہ فطر لیتے ہیں اور اگر ان کو کوئی رو کے کہ تمہارے لئے جائز نہیں ہے، جواب دیتے ہیں کہ ہم فقیر مسکین کو دیتے ہیں اور لوگ ان کو صدقہ فطر کا مالک بنا کر دیتے ہیں، ایسی صورت میں اگر وہ لے کر فقیر مسکین کو دے بھی دیں تو…

جواب

(۲) لینے والا گنہگار ہے، دینے والے کا صدقہ فطر ادا نہیں ہوا دوبارہ ادا کرنا چاہئے اگر دیتے وقت اس کا علم تھا، کہ یہ مالدار ہے۔ اگر ایسے امام سے بہتر امامت کے لائق دوسرا آدمی موجود ہو تو دوسرے آدمی کو امام بنانا چاہئے اور ناحق صدقہ فطر لینے والیکو امام بنانا مکروہ ہے۔ (۳)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو