الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

فطرہ کا مصرف ہمیشہ کے لئے متعین کرنا

سوال

قاضی یا مرشد کا مجاز ہے کہ اپنے تابعین سے بوجہ غربت یہ کہہ دے کہ تم لوگ ہمیشہ (نسلاً بعد نسل) فی کس ۲۵، ۳۰ روپیہ صدقہ فطر میں دیدیں تو کافی ہے کیا اس صورت میں پورا صدقہ فطر ادا ہو جاوے گا۔ یا نہیں؟ بصورت ثانی کیا کہا جائے گا؟

جواب

یہ پابندی عائد کرنا غلط ہے، اور مرشد کے منصب کیلئے بھی عیب کی چیز ہے، اور صدقۃ الفطر حساب سے ادا کر نالازم ہے، کمی رہ جائیگی تو واجب باقی رہ جائے گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو