مصارف بيت المال
سوال
ایک کمیٹی کے زیر نگرانی ایک بیت المال قائم ہے اس میں زکوۃ کی رقم یا کچھ عطیات جمع کر کے بوقت ضرورت حاجت مندوں کو قرض دینا اس سے زکوۃ ادا ہو جائیگی یا نہیں؟ (۲) اس جمع شدہ رقم میں سے مسجد کی تعمیر یا مرمت میں خرچ کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ (۳) امام و مؤذن کی تنخواہ بھی زکوۃ میں دی جاسکتی ہے یا نہیں؟ (۴) یتیم طلبہ یا غریبوں مسکینوں کے نابالغ بچے ان کا انتظام یا کھانا کپڑا وغیرہ یا کتب بیت المال سے دی جاسکتی ہے یا نہیں؟ (۵) ان تمام بچوں کو مصارف و دھلائی، سلائی وغیرہ دی جاسکتی ہے یا نہیں؟ (۶)
جواب
(۱) اس طرح زکوۃ ادا نہیں ہوگی، سب کی زکوۃ تباہ و برباد ہوگی اور وبال ذمہ میں باقی رہے گا، زکوۃ جس مصرف (حاجتمند) کو دی جائے بطور تملیک دی جائے نہ کہ بطور قرض۔ (۲) ان مواقع میں زکوۃ صرف کرنا جائز نہیں، نہ قرض کے طور پر دینا درست ہے۔ (۳) زکوۃ کی رقم تنخواہ میں دینا جائز نہیں ہے (۴)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔