الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زکوۃ دوسری جگہ بھیجنا

سوال

اپنے قرب وجوار اور شہر کو چھوڑ کر اگر کوئی شخص محض اس خیال اور نیت سے دوسرے شہر اور مدارس اسلامیہ کی امداد کرے کہ وہ چند حیثیت سے بہتر نظر آتا ہو تو حق تلفی کے گناہ کا مرتکب تو نہ ہوگا، مثلاً بڑا اور قدیمی مدرسہ فیض بخش سمجھ کر یا تعلیم اور انتظام اور دیانتداری کی خوبی سمجھ کر یا صحیح عقائد، عمدہ تعلیم اور فرقہ بندی کے جھگڑوں سے اس پر زوال آجانے کے سبب سے دور کے مدارس کی امداد کی جائے۔

جواب

ان وجوہ ترجیح کی بناء پر مدارس میں بھیجنا گناہ نہیں ایک شہر سے دوسرے شہر میں بلا کسی معتبر وجہ ترجیح کے زکوۃ نقل کرنی مکروہ ہے، کراہت سال پورا ہونے کے بعد میں ہے اگر کوئی سال پورا ہونے سے پیشتر زکوۃ ادا کرنی چاہے، اور ایک شہر سے دوسرے شہر میں بھیج دے تو وہ مکروہ نہیں۔ کذافی الطحطاوی

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو