زکوۃ سے طبی امداد
سوال
دریافت طلب امر یہ ہے کہ زکوۃ کا مصرف اس طبی امداد فنڈ میں لگایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اس کا اشتہار یہ ہے۔ طبی امدادی فنڈ ہمارے شہر بھٹکل کی آبادی روز بروز بڑھتی جارہی ہے، اور بیماریوں کی بھی کثرت ہو رہی ہے ڈاکٹروں کی تعداد بھی بہت بڑھ گئی ہے اور میونسپلٹی کی طرف سے کوئی انتظام نہیں ہے، بعض مسلمان ڈاکٹر غریب اور مزدوروں پر رحم کھا کر یا تو اُدھار دوا دیدیتے ہیں یا ان پر مہربانی کرتے ہیں مگر ہمارے شہر میں کوئی ایسا انتظام نہیں، جہاں پر غریب عوام بیماری میں دوا دارو کے لئے کچھ اعانت طلب کر سکیں، بعض ایسے مریضوں کو بھی…
جواب
اگر دوائیں بنا کر جن کی قیمت مقدار واجب (زکوۃ) ہو غرباء مستحقین کو تملیکاً دیدی جائیں تو زکوۃ ادا ہو جائے گی، یہی حکم صدقۃ الفطر اور قیمت چرم قربانی کا ہے۔ ہسپتال میں مستحق و غیر مستحق دونوں قسم کے آدمی آتے ہیں دوا بھی اکثر اوقات تملیکا نہیں دیجاتی، ان دونوں باتوں کی رعایت اگر کیجائے تو زکوۃ ادا ہونے میں تردد نہیں رہے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔