زکوٰۃ کے روپے میں رسالہ ماہانہ جاری کرنا
سوال
زکوۃ کا روپیہ کوئی شخص کسی رسالہ کے ادارے میں دے اس خیال سے کہ رسالہ کسی نادار مفلس کو یا طالب علم کو سال بھر تک پہنچایا جائے تو زکوۃ ادا ہو جائے گی اور ایسا کرنا کیسا ہے۔
جواب
جتنی قیمت کا رسالہ مفلس کے پاس پہنچے گا اتنی زکوۃ ادا ہو جائے گی، ایسا کرنا ادارہ کو وکیل بنانا ہے کہ تم اولا اپنا رسالہ ہمارے ہاتھ فروخت کر دو پھر ہماری طرف سے وکیل ہو کر وہ رسالہ فلاں شخص کو دیدو، یا خود خرید کر فلاں شخص کو قبضہ کے لئے وکیل بنانا ہے، اور بعد القبض اس کو مالک بنانا ہے، اور دونوں طرح زکوۃ کا ادا کرنا درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔