مقدمہ قاتل میں زکوۃ دینا
سوال
ایک مسلمان نے کسی کو عمد قتل کر دیا اور اسکو پھانسی کا حکم ہو گیا اسکے بھائی چاہتے ہیں کہ زکوۃ سے اسکی اپیل کریں اور پھانسی سے بچالیں تو قاتل کوزکوۃ دی جاسکتی ہے یا نہیں؟
جواب
اگر وہ مستحق زکوۃ ہے اور اس کو زکوۃ کا روپیہ دیدیا جائے اور وہ اس روپیہ پر قبضہ کر کے اپنے مقدمہ میں خرچ کرے تو زکوۃ ادا ہو جائے گی، اگر زکوۃ کا روپیہ اس کو نہ دیا جائے بلکہ برادری جمع کر کے اس کے مقدمہ میں خرچ کرے تو اس سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی قاتل جو ناحق قتل کرے وہ سخت گنہ گار ہے جیسا اور کبیرہ گناہ کرنے والے زانی وغیرہ کا حال ہے، ویسا ہی اس کا حال ہے دیندار کو اگر زکوۃ دی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔