جس کی ضروریات پوری ہو جاتی ہیں کیا وہ مستحق زکوۃ ہے؟
سوال
خالد جو مستحق زکوۃ تھا زکوۃ لیتا تھا اب اسکی آمدنی مسجد اور مدرسہ کی خدمت میں جو ہوتی ہے کسی طرح پوری ہوسکتی ہے، اب اگر وہ مال زکوۃ لیکر اپنے استعمال میں نہیں لاسکتا ہے، تو جو لوگ اس کو دیتے ہیں وہ بلا مانگے دیتے ہیں، اب وہ لیکر دوسرے مستحق زکوۃ کو پہنچا سکتا ہے، یا نہیں؟ یعنی جو لوگ پہلے سے دیتے آئے ہیں وہ دیتے ہیں، خالد لیکر اپنے استعمال میں نہیں لایا دوسرے جو مستحق ہیں انکو پہنچا دیا، ایسا کرنا خالد کیلئے جائز ہے یا نہیں؟
جواب
جب بغیر زکوۃ لئے اسکی ضروریات پوری ہو جاتی ہیں تو اچھا ہیکہ زکوۃ دینے والوں سے کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میری ضروریات اب پوری ہو جاتی ہیں، آپ کسی ضرورت مند کو دیدیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔