الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غنی کو زکوۃ کا استعمال کرنا

سوال

زکوۃ میں اگر کوئی چیز کسی مسکین کو دی گئی تو عبارات فقہاء اور حدیث بریرہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہوتا ہے کہ غنی کیلئے استعمال جائز نہیں تو کیا ایسی صورت میں مسکین پر یہ لازم ہوگا کہ وہ غنی دوست کو یہ بتلا دے کہ یہ زکوۃ میں ملی ہوئی چیز ہے آپ اسکو استعمال نہ کریں، اگر بتانا ضروری ہے تو کیا یہ زکوۃ دینے والے پر بھی ضروری ہوگا کہ وہ مسکین کو بتلا دے کہ یہ مد زکوۃ سے ہے تا کہ وہ غنی کو عاریہ دینے میں احتیاط کرے یا زکوۃ دہندہ نے مسکین کو نہیں بتلایا تھا مگر اس کے سامنے کوئی غنی اس چیز کو استعمال کرنے لگا تو کیا اس پر…

جواب

غنی کی زکوۃ ادا ہونے کے لئے تو یہ شرط نہیں کہ فقیر ومسکین کو علم ہو کہ یہ زکوۃ ہے: ولا يشترط علم الفقير انها زكوة على الاصح ا هـ (مراقی الفلاح ص: ۵۸۹.) لیکن جب مسکین کو معلوم ہو کہ یہ زکوۃ ہے اور پھر کوئی غنی اسکو بطور اباحت استعمال کرنا چاہے تو مسکین کو چاہئے کہ بتلا دے کہ یہ زکوۃ ہے جیسا کہ حضرت بریرہ کے واقعہ سے ثابت ہوتا ہے اگر غنی نے مسکین کو نہیں بتلایا اور اسکے سامنے اس…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو