الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کھاتا پیتا مالک مکان ہو اس کیلئے زکوۃ کا حکم

سوال

ایک شخص صاحب نصاب تو نہیں لیکن آسودہ اور فارغ البال ضرور ہے، ذاتی مکان بھی ہے اور کھانے کپڑے وغیرہ کی کل ضروریات باآسانی پوری ہوتی ہیں، کیا ایسے شخص کو زکوۃ وصدقات دینا درست ہے اگر ہے تو کیوں؟ جو شخص ایسے کو زکوۃ دے اس کی طرف سے ادا ہو گی یا نہیں؟

جواب

کسی ایسے شخص کو سوال کرنا تو حرام ہے مگر مالک نصاب نہ ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ لینا درست ہے، اور خود اس کے ذمہ زکوۃ فرض نہیں، آسودہ ہونے کی وجہ سے سوال کرنا حرام ہے، اور صاحب نصاب نہ ہونے کی وجہ سے زکوۃ کا لینا درست ہے، اور خود اس پر زکوۃ فرض نہیں: والاولی ان يفسر الفقير من له مادون النصاب كما في النقاية اخذاً من قولهم يجوز دفع الزكوة الى من يملك مادون النصاب اوقدر نصاب غير تام…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو