ايضاً
سوال
خالد ایک مسجد کا خادم تھا اپنی سال بھر کی ضروریات جو تنخواہ سے پوری نہیں ہو سکتی تھیں، مال زکوۃ سے پوری کرتا تھا، اب ایک دینی مدرسہ میں اس کو خدمت کا موقع ملا، اب آمدنی کچھ بڑھ گئی معمولی تنگی کے ساتھ اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے، مگر صاحب نصاب نہیں بنا، اس صورت میں خالد حسب معمول زکوۃ لے سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
جب تک ساڑھے باون تولہ چاندی یا اسکی قیمت حاجت اصلیہ سے زائد اسکے پاس نہ ہو وہ مستحق زکوۃ ہے۔ مگر جب اللہ تعالیٰ نے آمدنی میں اضافہ فرما دیا ہے تو زکوۃ لینے سے بچنا بہتر ہے کہ اضافہ آمدنی کا شکریہ ہے اس سے مزید ترقی کی توقع ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔