زکوۃ کیلئے ذوی القربی میں کون مقدم ہے؟
سوال
زید زکوۃ کا مبلغ بجائے انفرادی شکل میں پانچ دس روپیہ تقسیم کرنے کے کسی ایک رشتہ کے مستحق لڑکے کو چن کر مستقل طور سے اس کی پڑائی کی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہتا ہے، ایسی صورت میں رشتہ داروں میں کسی کا بیٹا یا بیٹی پہلے مستحق قرار پائے گی، از روئے شریعت بھائی کا بہن کا خالو کا یا ماموں کا؟ تفصیل سے لکھیں۔
جواب
اگر حاجت میں اور نوعیت تعلیم میں سب مساوی ہوں تو بھائی کا لڑکا مقدم ہے پھر بہن کا پھر خالہ اور ماموں کا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔