الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جس بچہ کی ماں سید ہو اس کو زکوۃ

سوال

میرے ایک تایا زاد بھائی تھے، ان کا انتقال ہو گیا وہ خود سید نہیں تھے لیکن بیوی جو انہوں نے چھوڑی وہ سیدہ ہے، انکے تین چار نابالغ بچے بھی ہیں، کیا شرعاً انکو زکوۃ دی جاسکتی ہے اگر نہیں تو کیا شرعی حیلہ سے دی جاسکتی ہے، ان لوگوں کی حالت بہت قابل رحم ہے، نہ بچوں کو ٹھیک سے روٹی مل سکتی ہے نہ کپڑا فی زمانہ یہ ممکن نہیں کہ زکوۃ کے علاوہ بھی کسی کی مالی امداد کی جاسکے امید ہیکہ اس امر پر خصوصی توجہ دے کر ان کیلئے کوئی راستہ سمجھائیں گے۔

جواب

ان بچوں کو زکوۃ دینا درست ہے نسب باپ سے چلتا ہے ان بچوں کا باپ سید نہیں تھا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو