فی الحال زکوة کی ضرورت نہ ہونیکے باوجود زکوۃ وصول کرنا
سوال
زکوۃ کے پیسوں کی فی الحال ضرورت نہیں ہے، مگر مدرسہ کے ابقاء اور ارتقاء اور استحکام کے پیش نظر بطور پیش بینی زکوۃ کی رقم سے لی جاتی ہے، تو کیا ایسا کرنا جائز ہے مستحقین زکوۃ کی حق تلفی تو نہیں۔ اگر مہتمم مدرسہ زکوۃ وصول کر کے حیلہ تملیک کرے اور پھر حسب مصالح صرف کرتا رہے تو حیلہ تملیک سے زکوۃ ادا ہو جائیگی، اگر مہتمم مدرسہ زکوۃ لینے سے انکار کر دے تو وقت ضرورت زکوۃ ملنا دشوار ہے، ایسی صورت میں کیا کیا جائے۔
جواب
مدرسہ کے بقاء وارتقاء اور استحکام کے لئے صورت مسئولہ اختیار کرنا درست ہے، تملیک سے زکوۃ فوراً ادا ہو جائے گی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔