الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اولاد بالغین پر زکوۃ کا صرف

سوال

یہاں ایک مدرسہ اسلامیہ ہے، جس کا خرچ آمد سے زیادہ ہے، اس لئے چندہ کیا جاتا ہے، کچھ لوگ زکوۃ دیتے ہیں ویسے ہم خود زکوۃ کا روپیہ لینے سے احتیاط برتتے ہیں، تملیک کو ہم بہتر نہیں سمجھتے، اس لئے زکوۃ کم ہی آتی ہے، آپ ہمیں بتائیں کہ اگر اتفاق سے زکوۃ آجائے تو ہم اس کو کسی ایسے آدمی کے بچوں پر خرچ کر سکتے ہیں، جو بظاہر صاحب نصاب نہیں ہے اور خود دار بھی ہے، اگر اس سے کہا جائے کہ تمہارے بچوں کے سلسلہ میں کتابوں کا روپیہ اتنا ہو گیا ہے وہ ادا کر دو اور وہ مجبوری ظاہر کرے، اس پر اگر ہم اس سے کہیں کہ ہم ان کتابوں کا روپیہ…

جواب

زکوۃ لینے سے جب آپ احتیاط کرتے ہیں تو بہتر یہی ہے کہ جو شخص دے اس کو بھی انکار کر دیں، تاہم نادار طالب علم کو زکوۃ کا پیسہ یا مد زکوۃ سے قاعدہ پارہ تملیکا دینے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی جب کہ وہ طالب علم سمجھ دار ہو، اور مالکانہ قبضہ کی اہلیت رکھتا ہو، بالکل چھوٹا نا سمجھ نہ ہو، مدرسہ میں خرچ کرنے کے لئے جو زکوۃ آئے اس کو بیواؤں اور مدرسہ سے غیر متعلق لا چاروں پر صرف کرنے کا حق…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو