الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زکوة بذریعہ غیر مسلم

سوال

زکوۃ کی ادائے گی مسلم غیر مسلم کے ذریعہ پہونچانے کے متعلق زید کہتا ہے کہ کسی پہونچانے والے نے ذمہ لے لیا ہے کہ میں یہ زکوۃ مستحق کو پہونچا دونگا، اور زکوۃ دینے والے نے زکوۃ دینے کی نیت سے رقم دیدی تو دینے والے کی زکوۃ ادا ہوگئی پہونچانے والا پہونچائے یا نہ پہونچائے چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، جب کہ بکر کہتا ہے کہ جس طرح زکوۃ ادا کرنا واجب وفرض ہے اسی طرح اس کی تحقیق اور مستحق کو برابر پہونچنے کی تحقیق بھی واجب وفرض ہے، اگر مستحق تک رقم نہیں پہونچی تو زکوۃ ادا نہیں ہوگی، البتہ جس کے ذریعہ پہونچائی جائے وہ شخص عالم…

جواب

ادائے زکوۃ کے لئے قابل اعتماد غیر مسلم کو بھی وکیل بنادینا درست ہے، مگر صرف وکیل کے حوالے کر دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی، جب تک وہ مصرف کو نہ پہنچادے۔ ادائے فرض میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے: وشرط صحة ادائها نية مقارنة لادائها للفقير او وكيله. (مراقى الفلاح ص: (۵۸۸) وكيل المزكى فيصح ولودفع الوكيل بلانية او دفعها لذمى ليدفعها للفقراء جاز لان المعتبر نية الآمر .

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو