اداء زکوۃ کے وکیل کو زکوۃ کا خود رکھ لینا
سوال
ایک شخص مسمی حمید جو صاحب نصاب ہے اس نے مال مملوکہ کی زکوۃ ایک سال گذشتہ کی یا ایک سال آئندہ کی بطور پیشگی کئی سو یا کئی ہزار کی رقم نکال کر ایک غیر ذی نصاب مسمی رشید مفلس کے حوالہ یہ کہہ کر دی ہے کہ یہ تمام رقم جو میں آپ کے سپرد کر رہا ہوں مد زکوۃ کی ہے اس رقم کا کوئی جز کسی ذی نصاب کی ملکیت میں ہرگز نہیں پہونچنا چاہئے اور بھائی رشید صاحب آپ بھی چونکہ غیر ذی نصاب ہیں حد شریعت کے اندر آپ بھی اس رقم میں سے لے سکتے ہیں، پس مسمی رشید مفلس نے وہ رقم زکوۃ کئی سو یا کئی ہزار کی اپنے قبضہ میں لے لی اور پچاس روپیہ اس رقم…
جواب
(۱) زکوۃ تو ادا ہو گئی مگر یہ فعل فقہا کے نزدیک مکروہ ہے۔ (۲) یہ کراہت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے ماخوذ ہے حضرت سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ تعالیٰ عنہ کا قصہ کتب صحاح میں مذکور ہے۔ وہ اس کراہت کا ماخذ ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔