الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اداء زکوۃ کے وکیل کو زکوۃ خود رکھنا

سوال

زکوۃ یا صدقہ کوئی کسی کو اس واسطے دے کہ جہاں مصرف ہوا اور جسکو مستحق دیکھے دیدے، درحقیقت وہ جن کو ادائیگی کے لئے دی جاتی ہے، وہ خود مستحق ہے، لیکن اس دینے والے کو اس کے مستحق اور مصرف ہونے کا علم نہیں کیا وہ مستحق رقم زکوۃ خود لے سکتا ہے یا نہیں یا صرف دوسرے مستحقین پر تقسیم کر دے؟ اس بات کا اس کو اختیار تھا کہ جس کو چاہے دے اور جتنا دے لیکن مستحق کو دے۔

جواب

امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس صورت میں اس کو خود رکھنا درست نہیں: لو قال لرجل ادفع زكوتي الى من شئت او اعطها من شئت فدفعها لنفسه لم يجز وفي جوامع الفقه جعله قول ابي حنيفة رحمة الله عليه وقال عند ابي يوسف رحمة الله عليه يجوز ولو قال ضعها حيث شئت جاز وضعها في نفسه شلبي هامش زیلعی ج : ۱، ص : ۳۰۵. باب المصرف.

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو