الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قرض کو زکوۃ میں محسوب کرنا

سوال

زید نے عمر کو دو سو روپیہ قرض دیئے اب زید قرض کو معاف کرنا چاہتا ہے لیکن اس طرح کہ زید کے ذمہ دو سو روپیہ زکوۃ ہے تو ہر سال ۲۵/۲۵ روپیہ عمر کے ذمہ سے قرض ساقط ہو جائے اور وہی ۲۵ روپیہ زکوۃ کے طور پر ادا ہو جائیں تو کیا یہ درست ہے؟

جواب

اس صورت میں زکوۃ ادا نہیں ہوگی، بلکہ دوسو روپیہ یکدم یا متعدد بار اسکو دے کر اپنے قرض میں اس سے وصول کرے اسطرح زکوۃ بھی ادا ہو جائیگی اور قرض بھی وصول ہو جائیگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو