مقروض کو قرض سے زکوۃ کے لئے بری کر دینا
سوال
زید پر عمر کا قرض ہے، زید فی الحال مستحق زکوۃ ہے، اگر عمر زید سے کہہ دے کہ میں نے رقم تجھ کو دیدی تو اس صورت میں عمر زکوۃ کی نیت کر سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
جو رقم بطور قرض واجب الاداء ہو اس سے مقروض کو بری کر دینا ادائے زکوۃ کیلئے کافی نہیں البتہ اگر مقروض کو زکوۃ کی رقم دیدی جائے پھر اس سے قرض میں وصول کر لی جائے تو درست ہے، کسی غریب مستحق زکوۃ کو اگر قرض کے نام سے دیدی جائے تب بھی زکوۃ ادا ہو جاتی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔