معاون کا مالک کی اجازت کے بغیر زکوۃ ادا کرنا
سوال
میں میرے والد صاحب اور تین بھائی پانچوں مل کر تجارت کرتے ہیں، تمام مال اور حساب و کتاب میرے پاس ہی رہتا ہے، اور نفع و نقصان کو آپس میں تقسیم نہیں کرتے، بلکہ جو کچھ ہو وہ تجارت میں ہی لگا دیتے ہیں، اگر کسی کو روپیہ کی ضرورت ہو تو اسکی ضرورت کے مطابق روپیہ دیدیتے ہیں، باقی تمام مال کو تجارت میں لگا دیتے ہیں جب زکوۃ کا نصاب آتا ہے، تو نصاب کے مطابق زکوۃ دینے کو والد صاحب اور باقی تینوں بھائی تیار نہیں، اس حال میں بندہ مجبور ہے اور حکم خداوندی کو پورا کرنا ضروری ہے، اس وجہ سے میں پورے دوسال سے مال کی زکوۃ نکال کر دے…
جواب
اگر اصل رقم والد صاحب کی ہے، اس سے تجارت شروع کی گئی ہے، تو کل مال کے مالک والد صاحب ہیں، ان کے ذمہ زکوۃ ہے، آپ چاروں بھائی شریک اس کے مالک نہیں، بلکہ والد صاحب کے معاون ہیں، اس مال میں چاروں پر زکوۃ واجب نہیں، بغیر والد صاحب کی اجازت کے آپ کو اس کی زکوۃ دینا جائز نہیں اور اس طرح زکوۃ ادا بھی نہیں ہوتی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔