وکیل نے مؤکل کی ہدایت کیخلاف دوسرے شخص کو زکوۃ دیدی
سوال
مرسل زکوۃ نے یہ شرط لگائی تھی کہ یہ پہلے کاشتکاروں کو اسطرح دیئے جائیں کہ میری زکوۃ ادا ہو جائے، نمبر تین کے کارندوں کو یہ پیسے عمداً دیئے تو زکوۃ ادا ہوگی یا نہیں؟ اگر زکوۃ ادا نہیں ہوئی تو یہ گناہ کس کے ذمہ ہو گا؟ تفصیل سے لکھیں۔
جواب
وکیل امین ہوتا ہے ہدایت موکل کے خلاف تصرف کرنے کا اس کو حق نہیں خلاف کرنے سے وکیل کے ذمہ ضمان لازم آئے گا، اور زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔