ادارہ میں زکوۃ کی رقم سال بھر سے زیادہ پڑے رہنا
سوال
ہمارے یہاں ایک قومی ادارہ ہے جو غریب، یتیم، بیواؤں کی امداد کے لئے قائم کیا گیا ہے، اور وہ اپنی خدمات ما شاء اللہ انجام بھی دیتا ہے، اسکی نوعیت یہ ہے کہ ہر سال رمضان المبارک میں زکوٰۃ، فطرہ اور عید الاضحیٰ کے موقع پر چرم قربانی جمع کرتا ہے اور سال بھر ماہانہ یتیم، بیواؤں کو ایک مقدار مقرر دی جاتی ہے، فی الوقت ادارہ کے پاس جمع شدہ کئی سال کی کچھ رقم موجود ہے، دریافت یہ کرنا ہے کہ اسطرح رقم زکوۃ فطرہ کی جمع کر کے رکھنا درست ہے، یا سال بھر مکمل جتنی رقم جمع ہو صرف کر دی جائے؟ حکم شریعت سے آگاہ فرمائیں۔
جواب
زکوۃ، فطرہ دینے والوں نے ادارہ کے ذمہ داروں کو وکیل بنایا ہے کہ ان کی زکوۃ وفطرہ کو صحیح جگہ پر صرف کر دیں، جب تک وہ صرف نہیں کریں گے زکوۃ و فطرہ کی ادائیگی نہ ہوگی، ذمہ بری نہیں ہوگا، واجب باقی رہے گا، ایسی رقوم پر سال بھر گذر جانا اچھا نہیں، اور واجب میں اتنی دیر نہ کی جائے، درمیان میں حوادث کا بھی احتمال رہتا ہے، گذشتہ رقم جو کچھ باقی ہو اس کو حسب ضرورت غرباء اور مستحق کو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔